جس دن ایک لاکھ جمع ھوجائینگے
میں سعودی عرب سے چلا جاونگا۔
انشااللہ

پہلے تو لوگ پیٹھہ پیچھے کہتے تھے. اب منہ پرھی کہنے لگے ھیں کہ” اور کتنے سال سعودی عرب میں ٹکے رہیں گے، اتنا کمالیا, کیا اب بھی بس نہیں ھوا؟۔ تو سنئے۔ میں تیس سال پہلے یہ سوچ کر آیا تھاکہ ایک آدھہ لاکھہ کماکر واپس ھوجاونگا، اور آج بھی اپنے ارادے پر قائم ھوں کہ جس دن میرے پاس میرے ایک لاکھہ جمع ھوجائیں گے میں انشااللہ واپس چلا جاونگا ۔ جی ھاں؛ میں ایک لاکھہ ڈالر یا پاونڈ کی نہیں بلکہ ایک لاکھہ روپئے ھی کی بات کررھاھوں۔ لوگ میری بات کا یقین نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں میں مذاق کررھاھوں. لوگ میری مجبوری نہیں سمجھتے۔ میں ان لوگوں میں سے نھیں جنہیں پانچ لاکھہ جمع ھوجانے پر دس لاکھہ نہ ھونے کا غم بیروزگاری کے غم سے زیادہ ستاتاھے۔ بات دراصل یہ ھیکہ میں قوم کی خدمت کرنا چاھتا تھا۔ میری خواہش تھی کہ کوئی اسکول، کالج، دواخانہ وغیرہ کھولوں اور تعلیمی ، سماجی اور علمی میدان میں بڑےبڑے کام کروں۔ یا کوئی انگلش اخبار یا رسالہ نکال کر تہذیب الاخلاق، الہلال اور البلاغ کی طرح صحافت میں ھلچل مچادوں. اسکے لئے کم سے کم ایک آدھہ لاکھہ روپئے تو پاس ہونے ھی چاہییں۔ ملک میں رھتے ھوئے اتنا کمانا اور وہ بھی آج سے تیس پینتیس سال قبل ناممکن تھا اسلئےمجھے سعودی عرب آنا پڑا۔ جب ویزا آیا تومیں نے یہ مصمّم ارادہ کرلیاتھا کہ جس دن ایک لاکھہ جمع ھوجائیں گے واپس آکرقوم کی خدمت کیلئے وقف ھوجاونگا۔ اور ھوسکے تو کوئی الکشن بھی لڑونگا اور قوم کی پسماندگی دور کردونگا۔ میرے ذھن میں اتنے انقلابی منصوبے آج بھی ھر وقت منڈلاتے رھتے ہیں کہ اگر میں ساری جماعتوں میں دس دس بھی بانٹ دوں تو ساری جماعتیں کام کرتے کرتے تھک جائینگی لیکن میرے مشورے اور منصوبے کبھی ختم نہیں ھونگے۔
ایسا بھی نھیں کہ میرے پاس ایک لاکھہ جمع نہیں ھوئے۔ کئی بار ھوئے لیکن ھر بار میرے ایک لاکھہ کا حسنی مبارک ھوگیا۔
ھوا یوں کہ جب پہلی بار میں نے دو تین سال میں ایک لاکھہ جمع کرلئے اور واپسی کا ارادہ کرلیا تو بڑے بھائی صاحب نے شرم دلائی کہ خالی ہاتھہ کیسے لوٹوگے۔ کچھہ تو سوچو کہ” جن لوگوں نے آتے وقت پھولوں کے ھار پہنائے، امام ضامن باندھے وہ سارے کچھہ نہ کچھہ تو آس لگائے ھوئے ھونگے ان کو ایک کھجور اور زم زم پر تو نہیں ٹالا جاسکتا۔ پھر گھر پر مانباپ اور چھوٹے بھائی بہن سارے تمہارے پہینچتے ہی بیگ بلکہ بیاگاں کھلنے کے منتظر ھونگے۔ ” بات معقول تھی۔ ھماری شاپنگ شروع ھوی اور ایک لاکھہ روپیئے کے تحفے بانٹ کر واپس آنا پڑا۔
پھر دوتین سال لگے اور ھم نے ایک لاکھہ جمع کرلئے۔ اب جونہی واپسی کا اعلان کیا والد صاحب نے لکھا کہ “اپنے لئے ایک آر سی سی کا سلیقے کا مکان بنالو پھر شوق سے آجانا۔ کب تک اس مٹّی کی دیواروں پر کھڑے کویلو کے مکان میں رھوگے جسمیں ہر بارش میں پرانے ٹپکے بند نہیں ھوتے کہ نئے نئے ٹپکے دریافت ھوجاتے ہیں۔ قوم پہلے لیڈر کا مکان دیکھتی ھے پھر ووٹ دیتی ھے۔ ” بات معقول تھی۔ پھر پلاٹ کی تلاش اور تعمیر شروع ھوئی اسمیں ھمارے چار پانچ سال نکل گئے۔ گھر بنا اور الحمدللہ گھر بھراونی بھی دھوم سے ھوی۔ اور ھم نے ایک لاکھہ پھر سے جمع کرنے شروع کردیئے۔ پھر والدہ کا خط آیا کہ بہنوں کےلئے رشتے آنے شروع ھوگئے ھیں۔ انہون نے لکھا کہ “پہلے بوسیدہ مکان میں شریف اور خوددار لوگوں کے رشتےآتے تھے۔ لیکن بڑا مکان دیکھہ کر دامادوں کے دام بڑھہ گئے ھیں۔ ایک مرغا جو پچاس ساٹھہ روپئے میں مل جاتاتھا اب دو سو روپئے سے کم میں نہیں ملتا۔ پھر قصابوں کے نخرے الگ ھیں۔ پہلے آٹو رکشے والے پرانے گھر کے سامنے پچیس تیس روپئے لے لیتے تھے اب بڑا گھر دیکھتے ھی پچاس روپئے کا ڈیمانڈ کرتے ھیں۔ دلہوں کا بھی ڈیمانڈ بہت بڑھہ گیاھے پہلے انجینئر یا ڈاکٹر بھی ایک آدھہ لاکھہ میں مل جاتے تھے اب تو معمولی گریجویٹ یا انٹر پاس بھی ایک لاکھہ سے کم میں نہیں ملتا۔ اگر تم اسطرح سعودی چھوڑ کر آجاوگے تو بہنوں کی شادی مشکل ھوجائیگی”۔ اب بھلا ھم امی کی بات کسطرح ٹال سکتے تھے۔
خرید و فروخت کا یہ کتنا تکلیف دہ کاروبار ھے۔ ھر شخص کی عمر دامادوں یا بہنوئیوں کی خرید کے چکر کے اطراف گھومتی ھے۔ اسی میں عمر کا اھم حصہ نکل جاتا ھے اور وہ زندگی کے مقصد سے دور ھو جاتا ھے۔ مزے کی بات یہ ھیکہ خود سالا جب کسی کا بہنوئی بنتا ھے تووہ اپنے سسر اور سالوں سے بدلہ لیتا ھے اور ان کو اپنی محنت کی کمائی اور قیمتی سال کھپانے کے مشن پر لگادیتاہے۔ اگرمستقبل میں ھونے والے سارے سالے اور بہنوئی مل کر یہ عہد کرلیں کہ وہ رسم و رواج اور ارمان کے نام پر ایک دوسرے پر کوئی بوجھہ نہیں بنیں گے تو ھزاروں افراد اپنا قیمتی مال اور وقت قوم کیلئے کئی بہتر مقاصد پر لگاسکتے ھیں۔ لیکن یہ باتیں اگر ھم اپنے ھونے والے بہنوئیوں سے کہتے تو وہ احتراما” سر جھکا کر سن تولیتے لیکن اگلے دن ان کے ابا جان یا امی جان کا فون آجاتاکہ رشتہ منظور نہیں۔ اسلئے ھم نے یہ ساری نصیحتیں دوسروں کیلئے اٹھا کر رکھیں، قرض لئے اور بہنوں کی شادی کی۔ اسطرح ھمارے چار پانچ قیمتی سال اور نکل گئے۔
پھرھم الحمدللہ ایک دو سال میں ایک لاکھہ جمع کرکے چھٹّی چلے گئے۔ لیکن جاتے ھی ھماری شادی کردی گئی۔ ھم نے بہت کہا کہ ھم کو پہلے قوم کی خدمت کرنی ھے لیکن والد صاحب نے ڈانٹا کہ “قوم کی خدمت کیلئے واجپائی جی بننا ضروری نہیں‘‘۔ خیر عقد اور مرگ سے فرار بھلا کسے ممکن ھے۔ ھم ٹھکانے لگادیئے گئے۔ پھر شب عروسی دلہن نے کہا کہ “ایک بار بس مکّہ اور مدینہ کی زیارت کروادیجئے پھر زندگی میں اور کچھہ نہیں مانگونگی”۔ھمیں نہیں پتہ تھاکہ عورت زندگی میں جو بھی مانگتی ھے وہ آخری بار ھی کہہ کر مانگتی ھے، اور بے وقوف مرد کا حافظہ کمزور ھوتا ھے۔ھر مرتبہ پہلی مرتبہ ھی کی طرح دے کر بھول جاتاھے۔ پھر بیگم کے سعودی عرب آنے کے بعد آپ کو پتہ ھیکہ گھر کو سیٹ کرنے میں کتنا خرچ ھوتا ھے۔ اسمیں پھر ھمارے کچھہ سال نکل گئے۔ پھر بیگم نے کہا کہ “آپ نے اپنے بھائیوں کو تو سعودی بلالیا جو کسی کام کے نہیں، اگر میرے ایک دو بھائیوں کو بلالیتے تو وہ کم از کم احسان تو مانتے”۔ اب سالوں سے احسان منوانا بھی ضروری تھا کیونکہ کسی نے کہا ھے
سالے سمجھے تو ساتھہ دیتے ھیں
سالے پلٹے تو ہاتھہ دیتے ھیں
اسطرح بہنوں، بھائیوں، بہنوئیوں اور سالوں کو سیٹ کرتے کرتے اور کچھہ سال نکل گئے اس دوران ھم دو بیٹیوں کے ابّاجان بھی بن گئے۔ پھر ایک دو سال میں ایک لاکھہ جمع ھوتے ھی بیگم نے فرمایا “دو دو بیٹیاں ھیں کل ان کی شادی ھوگی، پتہ نہیں کیسا شوھر ملے۔ خدانخواستہ بھاگ جائے یا دوسری شادی کرلے یا کچھہ ھوجائے تو بچّیوں کے نام پر کچھہ تو ھونا چاھیئے، کم سے کم ایک آدھہ گھر، پلاٹ یا فلیٹ کچھہ تو کردیجئیے”۔ یہ بات بھی معقول تھی۔ پھر اس نئے پروجیکٹ میں چار پانچ سال اور نکل گئے۔ اب میدان بالکل صاف تھا۔ پھر ھم نے دو ایک سال میں ایک لاکھہ جمع کیا اور اس بار قطعی آخری اعلان کردیا کہ اب ھم واپس نہیں آئینگے۔ لیکن بیوی سے بہتر کون اقتصادیات کو سمجھہ سکتاھے۔ اس نے بڑے دانشورانہ انداز میں کہا کہ “جس وقت آپ سعودی آئے تھے اس وقت ایک لاکھہ کی قدر آج کے ایک کروڑ کے برابر تھی۔ وطن جاکر آپ کوئ کاروبار یا نوکری تو کرنے سے رھے۔ آج کے دورمیں گھر چلانے، گاڑی، ڈرائیور اور نوکر رکھنے کیلئے کم سے کم ایک لاکھہ کی ماہانہ آمدنی ناگزیر ھے”۔ ھم نے پوچھا “یہ ایک لاکھہ ھر ماہ بھلا کہاں سے آئیں گے”۔ انہوں نے جواب دیا “اگر آپ دو تین کروڑ کہیں سرمایہ لگادیں یا ڈپازٹ کردیں تویہ ممکن ھے،اور اگر چار پانچ کروڑ ھوں تواور بھی اچھا ھے، بڑھاپے تک سکون ھی سکون ھوگا، ورنہ بیٹوں اور بہووں پر انحصار کرنا ھوگا”۔ ھم نے بے شمار ایسے بیٹے دیکھے ھیں جن کے مانباپ انتظار میں دروازے پر آنکھیں لگائے ھوتے ھیں اور بیٹے سسرالیوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے رھتے ھیں۔ ھم اس کا تصوّر کرکے کانپ گئے اور اپنا ارادہ ملتوی کرتے ھوئے اس نئے پروجیکٹ پر لگے ھوئے ھیں. انشااللہ یہ پروجیکٹ مکمل ھوتے ھی ھم ھمارے ایک لاکھہ جمع کرینگے اور قوم کی خدمت کیلئےچلے جائیں گے۔ قوم سے کہیئے کہ بس تھوڑا سا انتظار اور کرلے۔

نوٹ: اس عبرتناک افسانے کے تمام واقعات اور کردار فرضی ھیں اگر کوئی سالے یا ہہنوئ اس کی زد میں آجائیں تو یہ محض ایک اتفاقی حادثہ ھے اور ھم افسوس میں برابر کے شریک ھیں۔
علیم خان فلکی – جدہ
فبروری 2011

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)