ملک شام اورفلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ درندگی کے مظاہر ے ہوہی رہے ہیں کہ اسی بیچ ایک دوسرا زخم ہرا ہوگیا یعنی اراکان کے مسلمان بودھسٹوںکے ظلم وستم کی چکی میں بُری طرح پسنے لگے ،اوربرما حکومت اوربدھ مت کی دہشت گردانہ کاروائی میں 3 جون سے 12جون تک پچاس ہزارسے زائد مسلمان جان بحق ہوگئے ۔
اراکان وہ سرزمین ہے جہاں خلیفہ ہارون رشید کے عہدِ خلافت میںمسلم تاجروں کے ذریعہ اسلام پہنچا ، اس ملک میں مسلمان بغرض تجارت آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی،اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثرہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اورایسی قوت کے مالک بن بیٹھے کہ 1430ءمیں سلیمان شاہ کے ہاتھو ں اسلامی حکومت کی تشکیل کرلی، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوںتک مسلمانوں کی حکومت رہی ، مسجدیں بنائی گئیں ، قرآنی حلقے قائم کئے گئے ، مدارس وجامعات کھولے گئے ، ان کی کرنسی پر’ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے ابوبکر عمرعثمان اور علی نام درج ہوتا تھا ۔ اس ملک کے پڑوس میں برما تھا جہاں بدھسٹوں کی حکومت تھی ، مسلم حکمرانی بودھسٹوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784ءمیں اراکان پر حملہ کردیا، بالآخر اراکان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ، اسے برما میں ضم کرلیااوراس کا نام بدل کر میانمار رکھ دیا۔
1824ءمیں برما برطانیہ کی غلامی میںچلاگیا، سوسال سے زائدعرصہ غلامی کی زندگی گذارنے کے بعد1938ءمیں انگریزوں سے خودمختاری حاصل کرلی،آزادی کے بعدانہوں نے پہلی فرصت میں مسلم مٹاؤپالیسی کے تحت اسلامی شناخت کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی، دعاة پر حملے کئے ، مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا ،چنانچہ پانچ لاکھ مسلمان برما چھوڑنے پر مجبورہوئے،کتنے لوگ پڑوسی ملک بنگلادیش ہجرت کرگئے، مسلمانوں کی حالت زاردیکھ کر ملک فہد نے ان کے لیے ہجرت کا دروازہ کھول دیا، اس طرح ان کی اچھی خاصی تعداد نے مکہ میں بودوباش اختیارکرلی ،آج مکہ کے باشندگان میں 25فیصد اراکان کے مسلمان ہیں ۔ اس طرح مختلف اوقات میں مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا گیا، جولوگ ہجرت نہ کرسکے ان کی ناکہ بندی شروع کردی گئی،دعوت پر پابندی ڈال دی گئی ، دعاة کی سرگرمیوں پرروک لگادی گئی، مسلمانوں کے اوقاف چراگاہوں میں بدل دئیے گئے ، برما کی فوج نے بڑی ڈھٹائی سے ان کی مسجدوں کی بے حرمتی کی،مساجدومدارس کی تعمیر پر قدغن لگا دیا ،لاؤڈسپیکر سے اذان ممنوع قرار دی گئی ،مسلم بچے سرکاری تعلیم سے محروم کیے گیے، ان پرملازمت کے دروازے بندکردئیے گئے ،1982میں اراکان کے مسلمانوں کو حق شہریت سے بھی محروم کردیا گیا، اس طرح ان کی نسبت کسی ملک سے نہ رہی ، ان کی لڑکیوں کی شادی کے لیے 25 سال اورلڑکوں کی شادی کے لیے30 سال عمر کی تحدید کی گئی ، شادی کی کاروائی کے لیے بھی سرحدی سیکوریٹی فورسیز سے اجازت نامہ کا حصول ناگزیر قراردیا گیا ، خانگی زندگی سے متعلقہ سخت سے سخت قانون بنائے گئے۔ ساٹھ سالوں سے اراکان کے مسلمان ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں،ان کے بچے ننگے بدن ،ننگے پیر، بوسیدہ کپڑے زیب تن کئے قابل رحم حالت میں دکھائی دیتے ہیں، ان کی عورتیں مردوںکے ہمراہ کھیتوں میں رزاعت کا کام کرکے گذربسر کرتی ہیں ۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ایسے سنگین اورروح فرسا حالات میں بھی مسلمان اپنے دینی شعائر سے جڑے ہیں اور کسی ایک کے متعلق بھی یہ رپورٹ نہ ملی کہ دنیاکی لالچ میں اپنے ایمان کا سودا کیاہو۔
جون کے اوائل میں10دعاة مسلم بستیوںمیں دعوت کے لیے گھوم رہے تھے اور مسلمانوں میں تبلیغ کررہے تھے کہ بودھسٹوں کا ایک دہشت گردگروپ ان کے پاس آیا اور ان کے ساتھ زیادتی شروع کردی ،انہیں مارا پیٹا ، درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے جسموں پر چھری مارنے لگے ،ان کی زبانیں رسیوں سے باندھ کر کھینچ لیں یہاں تک کہ دسیوں تڑپ تڑپ کر مرگئے ، مسلمانوں نے اپنے دعاة کی ایسی بے حرمتی دیکھی تواحتجاج کیا، پھر کیا تھا، انسانیت سوز درندگی کا مظاہرہ شروع ہوگیا،انسان نما درندوں نے مسلمانوں کی ایک مکمل بستی کو جلادیا ،جس میں آٹھ سو گھر تھے ، پھر دوسری بستی کا رخ کیا جس میں700 گھر تھے اسے بھی جلاکر خاکستر کردیا،پھر تیسری بستی کا رخ کیا جہاں 1600گھروں کو نذرآتش کردیا۔ جان کے خوف سے 9ہزار لوگوںنے جب بری اور بحری راستوں سے بنگلادیش کا رخ کیا تو بنگلادیشی حکومت نے انہیں پناہ دینے سے انکار کردیااور اس کے بعد سے بدھ مت کے دہشت گرد برمی فوج کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ ہیںوہ حالات جن سے اراکان کے مسلمان حالیہ دنوں گذر رہے ہیں،مظلوموںکی آہیں، یتیموں اور بیواؤں کی چینخ وپکار،اورخانہ بدوش مسلمانوں کی سسکیاں آنکھوں کو اشکبار کردیتی ہیں اورضمیر کو کچوکے لگاتی ہیں کہ کہاں ہے غیرت مسلم ….؟ کہاں ہے ہمارے مسلم حکمراں کا سیاسی رول…. ؟ کہاں ہے رفاہی اداروں اورعالمی تنظیموں کی دادرسی ….؟
ہماری بات اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ سکتی ،عالمی تنظیموں کوجھنجھوڑنہیں سکتی لیکن آپ کے سمندغیرت کو تازیانہ ضرورلگاسکتی ہے ، آپ کے احساس کوضروربیدار کرسکتی ہے کہ آپ تک مظلوم مسلمانوں کی حالت زارپہنچ چکی ہے ۔
توآئیے !رحمت ومغفرت اورمواسات وغم خواری کے اس ماہ مبارک میں اراکان کے مظلوم مسلمانوں کے لیے گڑگڑاکراللہ کے حضورمخلصانہ دعائیں کریں ، اوراپنے پاکیزہ مالوں کی زکاة وصدقات سے ان کی داد رسی کریں کہ یہ دینی اخوت کا ادنی تقاضا ہے۔

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)