آج اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بہت معتبر ہو گئ ہو اور کیوں نا ہو یقیناٌ ہر عورت ماں بن کر ہی مکمل ہوتی ہے ـ اُس نے
کاٹ میں لپٹی ہوئی اپنی معصوم بچی کو دیکھا اور خوشی کا سانس لیا ـ ”ارے تم نے اس کے باپ کو اطلاع دی“
جب پڑوسن خالا نے پوچھا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ رات کی فلائیٹ سے اس کا شوہر واپس آ رہا تھا ـ مریم بہت خوش
تھی اسکا شوہر بہت اچھا تھا ـ دنیا کی ہر آسائش اسے میسر تھی ـ عالیشان گھر، گاڑیاں، نوکر اُس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا ـ
ان گزرے ہوئے دو سالوں میں اس کے شوہر نے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی ـ اُس کو کبھی بھولے سے بھی اپنا گھر
چھوڑنے کے فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوا تھا ـ مہران سے اس کی پہلی ملاقات کالج کے ایک فنکشن میں ہوئی تھی ـ وہ اس سے تین
سال سنئیر تھا ـ پھر ملاقاتیں بڑھتی گئیں ـ اس وقت وہ انٹر میں تھی ـ کو ایجوکیشن میں پڑھنے کے باوجود اس نے کبھی کسی سے
غیر ضروری بات نہیں کی تھی ـ اس کا کردار صاف شفاف پانی کی طرح تھا اور اس پانی میں ابھرنے والا عکس مہران کا تھا ـ وہ دل
موہ لینے کا ہنر جانتا تھا ـ باتوں میں جادو کا سا اثر رکھتا تھا ـ مریم دھیرے دھیرے ساری احتیاطیں بھول چکی تھی ـ جب اس نے
مہران سے رشتا بجھوانے کو کہا تو اسکی امی نے صاف انکار کر دیا ـ دونوں خاندان اسکے حق میں نہیں تھے ـ مریم بہت پریشان
تھی کبھی دل کی بات ماننے کی سوچتی اور کبھی دماغ کی ـ
جب دونوں گھرانوں کی رضامندی کی کوئی صورت نظر نا آئی تو مہران نے اس پر کورٹ میرج کا ارادہ ظاہر کیا مگر اس نے انکار کر
دیا ـ کچھ تو وہ رسوائی سے خوفزدہ تھی اور کچھ ماں باپ کی جدائی سہنا اس کے بس میں نا تھا ـ لیکن بلاآخر جذبات کے بہاؤ کے
سامنے اس کی ایک نا چلی اور اس نے انتہائی قدم اٹھا ہی لیا ـ
مہران نے اسے یقین دلایا کے وہ اسے کوئی طعنے نہیں دے گا اور اسے باعزت طریقے سے گھر لے جائے گا ـ اور پھر واقعی وہ اپنے وعدے
کا پکا نکلا اور اس نے بھولے سے بھی ماضی کو اس انداز سے نہیں کریدا ـ وہ ایک اچھا شوہر ثابت ہوا ـ مریم کے حالات بدلنے لگے ـ
وقت اچھا گزر رہا تھا اس لئے وہ کبھی کبھی سوچتی کے جیسے ہمارے بڑے کہتے ہیں ویسے ہی نتائج نکلنا ضروری نہیں اور اس نے
مہران کو اپنا کر کوئ غلطی نہیں کی ـ
رات سات بجے کی فلائیٹ سے جب مہران پہنچا تو اس نے مسکراتے ہوے اسے مبارک باد دی اور ارادہ ظاہر کیا کے اسکی بچی کا نام
عروج ہونا چائیے تاکے اسے عروج حاصل ہو پھر وہ کچھ سوچ کر گویا ہوا ـ
اور ہاں سنو اسکی تربیت اپنی طرح نا کرنا کل کو طعنے سننے کو نا ملے ـ مریم کو اپنے اندر چھناکے کی آواز آئی جیسے کچھ ٹوٹ گیا
ہو ـ اسے آج اپنا آپ مجرم سا محسوس ہونے لگا اور ایک لمحے کے لئے ماں باپ کے چہرے اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے جنھیں
اس نے ناسمجھی میں آ کر ایک شخص کے لئے ٹھکرا دیا تھا جس نے آج ایک بات میں اس کا مان توڑ دیا تھا ـ
والدین کے الفاظ اسکی سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے ”بیٹا انسان کا کردار ہی اس کا سب کچھ ہوتا ہے ـ کبھی جذبات میں کوئی غلط
قدم نا اٹھانا اور یاد رکھنا سفید دوپٹے پر ذرا سا داغ بھی نمایاں نظر آتا ہے“ ـ
آج اسے محبت کی ساری کہاوتیں ہیچ محسوس ہونے لگی تھیں ـ اسکے اعتماد کی عمارت دھڑام سے گر چکی تھی ـ آج اسکی آنکھیں
کھل چکی تھیں مگر دل و دماغ پچھتاوے اور ندامت میں ڈوبے جا رہے تھے ـ

بلند رکھنا نگاہ اپنی، وقار اپنا، شعار اپنا
نا ڈگمگائیں قدم تمھارے، کچھ ایسا رکھنا کردار اپنا

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)