اس کائنات میں دل بہت ہی خطرناک چیز ہے – خطرناک اس لئے کہ یہ اکیلا رہتا ہے ، اکیلا سوچتا ہے ، اور اکیلا ہی عمل کرتا ہے –

اور اکیلے پن میں بڑا خوف ، بڑا وہم مسلسل ڈر ہوتا ہے –

دماغ ہمیشہ عقلمندی کی ، حفاظت کی باتیں سوچتا ہے – اپنے آپ کو COVER کرنے کی ، اور محفوظ رہنے کی ترکیبیں وضع کرتا ہے –

دماغ گروہ میں چلتا ہے اور اپنے ارد گرد آدمیوں کا ہجوم رکھتا ہے – اسی جلوس سے اس کو تقویت ملتی ہے ، سہارا ملتا ہے –

لیکن فقیر ہمیشہ اکیلا رہتا ہے – دل کے فیصلے کے مطابق ، خوفناک مقاموں میں –

دماغ جب بھی سوچتا ہے اپنی لیڈری ،اپنی برتری اور اپنی نمود کے بارے میں سوچتا ہے –
اپنی ذات کو مرکز بنا کر سوچتا ہے –

دل جب بھی سوچتا ہے محبوب کا گھر دکھاتا ہے – دل سے سوچنے والا ماریا تھریسا ہوتا ہے یا منشی اسپتال کا خالق یا ایدھی ………………
اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ ہمیشہ اکیلا ہوتا ہے اور اکیلا ہی چلتا ہے –

جو کوئی دل کی طرف مائل ہوا وہ گرا ، گرفتار ہوا، پکڑا گیا – اسی لئے ہم کہتے ہیں فلاں ، فلاں کی محبّت میں گرفتار ہوا –

دماغ ہمیشہ اور ، اور ، اور کا طلبگار ہوتا ہے – ھل من مزید پکارتا رہتا ہے – یہ اس حقیقت کو بلکل نہیں جانتا کہ تمھارے پاس پہلے سے کیا کیا ہے –
اور تمہارے قبضے میں کیا کچھ ہے – یہ تو بس اور اور مزید مزید کا شکار ہے –

تم چاہے فقیر ہو ، یہ اور مانگے گا –
شہنشاہ ہو یہ اور مانگے گا-
ایک دولت مند شخص ہمیشہ غریب رہتا ہے کیونکہ وہ اور کا طلبگار ہوتا ہے –

انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے دل میں سوائے محبوب کے یعنی خیال باری تعالیٰ کے اور کوئی خیال نہ آئے –

لیکن خیال آتا رہتا ہے –

وہ پریشان ہوتا ہے –

روتا ہے ، دعائیں مانگتا ہے ، اور پھر گھبرا جاتا ہے –

لیکن اس کو یہ معلوم نہیں کہ قلب کی حالت شارع عام کی سی ہے ، اس پر سے بادشاہ بھی گزرتے ہیں اور چوہڑے چمار بھی –

بلکہ بعض اوقات تو ایسے ہوتا ہے کہ کسی کم ذات اور میلے ٹھیلے کے گزرنے کی وجہ سے بادشاہ کی سواری روک لی جاتی ہے –

اسی طرح قلب کی شاہراہ پر شاہی سواری کے ساتھ ساتھ ایرے غیرے بھی چلتے ہیں –

ہجوم وساوس سے گھبرانا نہیں چاہئے ، بلکہ ذکر کو جاری رکھنا چاہیے –
اس سے خیالات از خود رفع ہو جاتے ہیں –

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)