خلیجی ریاست کویت کے علماء کرام نے سعودی عرب کے شاہی مفتی ڈاکٹر عبداللہ المطلق کے اس فتوے کی کھل کر حمایت کی ہے جس میں انہوں نے خلیجی ریاستوں میں “موسم گرما کی شادیوں” کے زور پکڑتے رحجان پر تنقید کرتے ہوئے “موسمی شادیوں” کو حرام قرار دیا تھا۔ علماء کا کہنا ہے ایسا نکاح یا شادی جس میں زوجین کے درمیان شادی کے اختتام کے لیے ایک خاص مدت متعین کی گئی ہو شرعا حرام ہے۔ اسلام جزو وقتی شادی کی اجازت نہیں دیتا، جو لوگ اس طرح کے تصور کو رائج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اسلام کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں۔کویت میں سپریم ایڈوائزری کمیٹی برائے نفاذ احکام شریعت کے چیئر مین اور ممتاز عالم دین ڈاکٹر خالد المذکور نے اپنے ایک فتویٰ نُما بیان میں کہا ہے کہ اگر زوجین کے درمیان شادی ختم کرنے کے لیے کوئی مدت مقرر نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں نکاح درست ہو گا لیکن اگر نکاح کے برقرار رکھنے کے لیے کوئی مخصوص مدت کا تعین کیا گیا تو ایسی صورت میں یہ مکروہ تحریمی ہے۔
کویت کے ایک دوسرے عالم دین اور افتاء کونسل کے صدر ڈاکٹر ناظم المسباح نے بھی موسمی شادیوں کے تصور کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے سعودی عالم دین شیخ عبداللہ المطلق کے اس فتوے کو درست قرار دیا جس میں انہوں نے “موسمی شادیوں” کو حرام ٹھہرایا ہے۔ شیخ المسباح کا کہنا ہے کہ طلاق کی نیت سے کی جانے والی شادی حرام ہے۔
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے گفتگو کرتے ہوئے کویت کے مختلف علماء کرام نے “جز وقتی شادی یا موسمی نکاح” کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے اسلام کو بدنام کرنے ایک سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن وحدیث اور قرائن و اقوال صحابہ میں بھی اس طرح کی شادی کے جواز کا کوئی تصور نہیں ملتا ہے۔ جن لوگوں نے یہ تصور راسخ کرنے کی کوشش کی ہے وہ اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہیں۔کویتی عالم دین ڈاکٹر بدر الرخیص نے کہا کہ سفر کے دوران جز وقتی شادی کرنا حرام ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے غلط رسوم و رواج کو اسلام میں داخل کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے عالم دین ڈاکٹر مصطفیٰ محمد الطبطبائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں کچھ افراد بالخصوص بڑی عمر کے لوگ “متعہ” کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ لوگ غریب گھرانوں کی لڑکیوں سے کم پیسے کے عوض متعہ کرتےہیں چونکہ اس طرح کی شادی محض جز وقتی ہوتی ہے جس کے بعد میاں بیوی کے درمیان جدائی ہو جاتی ہے۔ اسلام نے اس طرح کی شادی کے تصور کو حرام ٹھرایا ہے۔انہوںنے کہا کہ جو لوگ موسمی یا جز وقتی شادی کے جواز میں فتوے دیتے ہیں وہ قرآن وسنت سے اس کی کوئی دلیل پیش کریں۔ اس طرح کی شادیوں کے نتیجے میں خواتین کے پیٹ میں بچے ضائع کر دیے جاتے ہیں جو خود ایک بڑا جرم ہے۔خیال رہے کہ خلیجی علماء کی جانب سے یہ فتوے ان فتاویٰ کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جن میں موسمی شادیوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ ان فتوؤں سے فائدہ اٹھا کر خلیجی ممالک میں سیرو سیاحت کے دوران شادیاں رچا لیتے ہیں اور سیرو سیاحت سے جی بھر جانے کے بعد بیویوں کو بھی طلاق دے دیتے ہیں۔

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)