مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں آرہا کہ میری کسی فیس وغیرہ کا مسئلہ تھا یا کوئی اور منہ زور قسم کی ضرورت آپڑی تھی، جب ماں نے کسی صندوق میں رکھی سرخ رنگ کی ایک مخملی ڈبیا سے سونے کی انگوٹھی نکال کر مجھے دی تھی اور کہا تھا کہ اسے بیچ آ لیکن کسی کو بتانا نہیں۔مجھے معلوم تھا کہ گھر کی تنگ دستی پہلے ہی ماں کا سارا زیور چاٹ چکی ہے اور شاید اس کے پاس اپنی شادی کی یہ واحد نشانی باقی رہ گئی ہے۔مجھے یاد ہے کہ رگوں میں دوڑتے نو عمری کے خون کے باوجود انگوٹھی ماں سے لیتے ہوئے میرے ہاتھوں میں ہلکا سا رعشہ آگیا تھا۔انگوٹھی جیب میں ڈالے میں گھر سے نکلا اور محلے میں جماعت اسلامی کے ایک دیرینہ رکن کے پاس چلا گیا۔وہ گھر پر نہ ملے۔میرا خیال تھا کہ تھوڑی سی رقم ادھار مل جائے تو انگوٹھی بکنے سے بچ جائے۔مجبورا بازار میں سنار کی دکان پہ گیا۔یہ 1960 کی دہائی کا کوئی اولین سال ہوگا۔انگوٹھی کی قیمت پچیس روپے لگی۔میں نے انگوٹھی واپس اپنی جیب میں ڈالی اور باہر نکل آیا راستے میں جماعت والے دوست مل گئے۔ میں نے ان سے کہا۔ضرورت آپڑی ہے۔کچھ دنوں کے لئے پچیس روپے کا بندوبست ہوسکتا ہے؟ وہ انتہائی نفیس انسان تھے لیکن میں جانتا تھا کہ آسودگی ان کے ہاں بھی نہیں۔انہوں نے بڑی لجاجت اور انتہائی شرمندہ سا ہوتے ہوئے بتایا کہ اتنے پیسے تو نہیں ان کے پاس۔میں نامراد سا ہوکے گھر آگیا اور جھوٹ بولا کہ سنار کی دکان بند تھی۔تھوڑی دیر بعد پھر پتہ کروں گا۔کوئی آدھ گھنٹہ گزرا ہوگا کہ جماعت والے دوست سائیکل پہ گھر آگئے کہنے لگے۔بہت شرمندہ ہوں۔ایسے ہی علم دین سنار کے پاس گیا تو اس نے آپ کا ذکر کیا۔پھر انہوں نے اپنے میلے بوسیدہ سے کرتے کی جیب سے پانچ پانچ روپے کے پانچ نوٹ نکال کر دیئے اور بولے۔اقبال ہوٹل والے سے لئے ہیں۔اگلے ہفتے تنخواہ ملے گی تو اسے دے دوں گا۔آپ فکر نہ کریں۔میں نے انگوٹھی انہیں دیتے ہوئے کہا۔آپ یہ امانتا رکھ لیں۔ایک دو ماہ میں پیسے دے کر واپس لے لوں گا۔انہوں نے مجھے گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔اس کی ضرورت نہیں۔ میں نے گھر آکر ماں کو ساری بات بتائی۔وہ بولیں۔بیٹا ایک دو ماہ بعد بھی کہاں سے آئیں گے۔انگوٹھی بیچ دیتے تو اچھا تھا۔
میں نے ماں سے کئے گئے وعدے کا پاس کیا اور کبھی یہ واقعہ کسی کو نہیں سنایا۔آج نصف صدی بعد پہلی بار لکھ رہا ہوں۔وجہ یہ نہیں کہ میں اسے بھلا بیٹھا تھا۔ کسی نہ کسی حوالے سے یہ بات مجھے ہر آٹھ دس دن بعد ضرور یاد آتی ہے۔امید ہے امی کی روح مجھے اس وعدہ خلافی پر معاف کردے گی۔لیکن گزشتہ روز سپریم کورٹ کے عالی مرتبت جج مسٹر جسٹس خلجی عارف حسین نے جب کہا کہ  پاکستان میں غریب ہونا 302 سے بھی بڑا جرم ہے اور غریب ہوکر بولنا اس سے بھی بڑا جرم تو جیسے میرے دل کے کسی پرانے زخم کے ٹانکے سے کھل گئے اور لہو پھر سے رسنے لگا۔غربت کی بے چارگی، کیسے المیے جنم دیتی ہے۔اس کا تصور وہی کرسکتا ہے جو کبھی اس بھٹی میں جلا ہو۔
میرے ماں باپ کو سب سے زیادہ قلق صرف ایک بات کا تھا کہ غربت وناداری کے باعث وہ مجھے پڑھا نہیں پارہے۔ میرے ماموں اگر ہاتھ نہ تھامتے تو جانے آج زندگی کس دھارے میں بہہ رہی ہوتی۔میٹرک کے فورا بعد تلاش رزق کی چکی کے دو پاٹوں میں پستے ہوئے میں نے کس طرح ایم اے اردوکیا اور کیوں کر بی ایڈ کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آکر ریواز میلہ رام گولڈ میڈل کا حق دار ٹھہرا۔یہ ایک الگ کہانی ہے۔اس وقت میرے ہاتھ میں چودہ کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب ہے جس کی ہر کہانی نے مجھے رلا دیا لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے لئے دعاؤں کا ایک باب فضیلت بھی کھل گیا جو اس دور میں غربت و ناداری، معذوری، یتیمی یا کسی بھی افتاد کے مارے ہوئے بچوں کی دست گیری کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے وسائل فراہم کررہے ہیں۔ کاروان علم فانڈیشن کے ناظم اعلیٰ خالد ارشاد صوفی کی مرتب کردہ کتاب جوہر قابل میں شامل چودہ کہانیاں،ایثار، عزم و ہمت، انسان دوستی اور غریب پروری کی ایسی تابندہ داستانیں ہیں جن پر ہر پاکستانی فخر کرسکتاہے۔یہ داستانیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر معاشرے کے کچھ زندہ و بیدار لوگ، اپنی ذات اور اپنے مفادات کا جال توڑ کر انسان دوستی کا مقدس مشن نہ اپنالیں تو دنیا کتنی تاریک ہوجائے اور کیسے کیسے جوہر قابل نامراد راہوں کی دھول ہو جائیں۔
یہ اس صدی کے اوائل کا ذکر ہے کہ اردو دائجسٹ کے نامور، صدر مجلس ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے ایک ہونہار طالبہ، سعدیہ مغل کے بارے میں چھوٹی سی خبر پڑھی کہ اس ذہین طالبہ نے میٹرک کے امتحان میں، نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان بھر کے تمام بورڈز میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔وہ لاہور کے ایک نامی گرامی کالج میں پڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن غریب والدین وسائل سے محروم ہیں۔یہ خبرقریشی صاحب کے دل کا زخم بن گئی۔اس زخم سے لہو کا ایک دھارا پھوٹا۔اس دھارے سے خیال کی ایک کونپل نے سراٹھایا۔جناب اعجاز حسن قریشی اور جناب الطاف حسن قریشی نے نادار بچوں کی دست گیری کیلئے ایک ادارے کی ٹھانی۔خاندان کی ایک بیٹی نے دس ہزار روپے کا پہلا عطیہ دیا اور 15/ نومبر 2003 کو کاروان علم فانڈیشن نامی ادارہ تشکیل دیا گیا۔
گزشتہ ساڑھے آٹھ برس کے دوران اس نیک نام اور فعال ادارے کی کارکردگی بیان کرنے کے لئے ایسے کئی کالم بھی کافی نہ ہوں گے میں ذاتی طور پر کئی دل کشا کہانیوں کا گواہ بلکہ ایک کردار ہوں? یہ کوئی ڈیڑھ پونے دو سال پہلے کا ذکر ہے? پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے سے ایک بچی نے مجھے فون پر بتایا کہ اس نے ایف ایس سی میں 941 نمبر لئے? میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ میں وہ 841 نمبر لے کر کامیاب ٹھہری? میرٹ لسٹ کے مطابق اس کا نام قائد اعطم میڈیکل کالج بہاولپور کے لئے آگیا ہے? وہ یتیم ہے? بھائی معمولی نوکری کرتا ہے? داخلہ فیس کے لئے ساٹھ ہزار روپے نہیں ہیں? بچی کی باتیں سن کر مجھے ماں کی انگوٹھی یاد آگئی? مجھے پہلا خیال کاروان علم فانڈیشن کا آیا? برادرم اعجاز حسن قریشی سے بات کی? انہوں نے اپنے طریقہ کار سے جانچ پرکھ کی? دو دن کے اندر اندر بچی کی فیس ادا کردی گئی? اس کے تمام تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری بھی فانڈیشن نے لے لی?وہ دن میں کبھی نہیں بھولوں گا جب اسی بچی کا فون آیا? سر میں قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے بول رہی ہوں? میرا داخلہ ہوگیا ہے? مجھے یہ خواب لگ رہا ہے سر? اس بچی سے اب میرا رابطہ نہیں لیکن میں گاہے گاہے خالد ارشاد صوفی سے اس کے بارے میں پوچھتا رہتا ہوں? کاش وہ ڈاکٹر ہوکر کسی ہڑتالی جتھے کا حصہ بن کر انسانی زندگیوں سے نہ کھیلے?
لاہور میں مقیم میری ایک عزیزہ کے گھر ایک مفلوک الحال بیوہ عرصے سے برتن مانجھنے، کپڑے دھونے، صفائی کرنے اور کھانا بنا نے پر مامور ہے? بڑی محنت اور مشقت سے اس نے اپنی بیٹی کو پڑھایا? ایف ایس سی میں اس نے 87 فی صد کے لگ بھگ نمبر لئے? میڈیکل انٹری ٹیسٹ بھی عمدہ اسکور میں پاس کرلیا? لیکن ناداری آڑے آگئی? بیٹی کو آرزو تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے گی اور صرف فوج میں نوکری کرے گی? لیکن آرزو کا یہ چراغ بے مہر ہواؤں کی زد میں تھا۔عزیزہ نے مجھ سے بات کی? میں نے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور عزیزی ارشاد صوفی کے سامنے مقدمہ رکھدیا? انہوں نے بچی کے تعلیمی ریکارڈ کو اپنے معیار کے مطابق پایا? کاروان علم فانڈیشن گزشتہ چار برس سے اس بچی کی کفالت کررہی ہے? سال ڈیڑھ سال بعد وہ آرمی میڈیکل کالج سے نکلے گی تو اس کے کندھوں پر کپتانی کے تین پھول مسکرا رہے ہوں گے? اور ماں ان پھولوں میں انہی آرزؤں کا ایک گلستان دیکھ رہی ہوگی?
گزشتہ پانچ سالوں میں کاروان علم فانڈیشن میٹرک کی سطح سے ایم اے اور ایم بی بی ایس کی سطح تک کے تین ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کی کفالت کرچکی ہے? اس وقت بھی وہ 483 طلبہ و طالبات کے تعلیمی اخراجات ادا کررہی ہے جن کا تخمینہ ایک کروڑ روپیہ سالانہ کے لگ بھگ ہے? ایک خاص پہلو یہ ہے کہ فانڈیشن ضروری خیال کرے تو نادار والدین کو بھی اعانت فراہم کرتی ہے? شرط یہی ہے کہ تعلیمی کفالت کی درخواست دینے والا بچہ واقعی کم وسیلہ ہو اور اس نے میٹرک اور ایف ایس سی میں75 فی صد سے زائد نمبر لئے ہوں? فانڈیشن درجنوں دیگر فلاحی منصوبوں پر بھی کام کررہی ہے?
میں کاروان علم فانڈیشن کو روشنی کا ایک مینار خیال کرتا ہوں? اس روشنی کو تاباں رکھنے اور اس کا دائرہ نور دور دور تک پھیلانے کیلئے اصحاب خیر کو دل کھول کر اس کی مدد کرنی چاہیے? بالخصوص سمندر پار پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مٹی کا قرض اتارنے کیلئے اس تنظیم کا ہاتھ بٹائیں? عطیات کا پتہ ہے ? کاروان علم فانڈیشن اکانٹ نمبر 424-3 برانچ کوڈ 110 دی بینک آف پنجاب سمن آباد لاہور? مزید معلومات کی لئے:? سیل فون 0321-8461122 لینڈ نمبر 042-37522741-42 نیز info@kif.com.pk اور www.kif,com.pk

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)