مچھیرے نے الله کا نام لے کر ندی میں جال ڈالا۔ دن بھر کے انتظار کے بعد دو بڑی سی مچھلیاں ہاتھ لگیں۔ وہ اپنا جال سمیٹ رہا تھا کہ ایک چیل تیزی سے جھپٹی اور اپنے پنجوں میں ایک مچھلی دبا کر اڑ گئی۔ مچھیرے کو بہت افسوس ہوا، مگر پھر وہ کچھ سوچ کر مسکرایا۔ اس کا بیٹا چیل اور اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔ مچھیرے نے کہا، “بیٹا الله کا شکر ادا کرو کہ ایک مچھلی بچ گئی۔ دوسری مچھلی ہماری قسمت میں نہیں تھی۔ جو چیز جتنی قسمت میں ہوتی ہے اتنی ہی ملتی ہے۔ قسمت کو کوسنا ناشکروں کا کام ہے۔”
وہ چیل اڑتی ہوئی ایک پہاڑی کی طرف جا پہنچی۔ ایک دوسری چیل نے اس سے مچھلی چھیننے کے لیے اس پر حملہ کر دیا۔ دونوں چیلوں میں چھینا جھپٹی ہونے لگی اور مچھلی چیل کے پنجوں سے پھسل کر پہاڑی پر رہنے والے ایک درویش کی جھونپڑی کے سامنے گر پڑی۔ درویش نے مچھلی کو اٹھایا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، “اے الله! آپ نے میری دعا قبول کر لی۔ میں نے مچھلی ہی تو مانگی تھی۔ مگر آپ کو تو معلوم ہے کہ میرے پاس مچھلی پکانے کے لیے نہ تو تیل ہے اور نہ مصالحہ۔ مجھے تو پکی پکائی مچھلی چاہیے۔ میں یہ مچھلی نہیں کھا سکتا۔ اسے واپس منگوا لیجیے اور مجھے پکی ہوئی مچھلی بھجوائیے۔”
یہ کہہ کر درویش جھونپڑی میں چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد جب وہ دوبارہ باہر آیا تو مچھلی وہاں نہیں تھی۔ اسے ایک چیل نے اٹھا لیا اور وہ دوسری چیلوں سے بچتی ہوئی، جو اس سے مچھلی چھیننے کے لیے اس کا پیچھا کر رہی تھیں، پہاڑی کے نیچے کی طرف اڑ رہی تھی لیکن دو چیلوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اس سے مچھلی چھیننے کی کوشش کی۔ اس لڑائی میں چیل کے پنجوں سے وہ مچھلی نکل کر ایک غریب کسان کے آنگن میں جا گری۔ کسان کی بیوی نے دوڑ کر وہ مچھلی اٹھا لی اور کسان سے بولی، “میں تم سے کتنے دنوں سے کہہ رہی تھی کہ میرا دل مچھلی کھانے کو چاہ رہا ہے۔ تم نے تو لا کر نہ دی، الله میاں نے آج مجھے بھیج دی۔ میں نے منّت مانی تھی کہ جب بھی مچھلی پکاؤں گی پہاڑی والے بابا کو بھیجوں گی۔ اب میں مصالحہ پیس کر مچھلی پکائے دیتی ہوں۔ تم بابا کو جا کر دے آؤ اور کہنا کہ بابا دعا کریں کہ ہمارا ہونے والا بچہ زندہ اور سلامت رہے۔”
کسان کی بیوی نے مچھلی پکائی کہ اتنے میں کسان کا دوست مچھیرا وہاں آ گیا۔ کسان نے اپنے دوست سے کہا، “تم اچھے وقت پر آ گئے۔ آج مچھلی پکی ہے۔ کھانا کھا کر جانا۔”
مچھیرے نے تعجب سے پوچھا، “مگر تم کو مچھلی کہاں سے مل گئی؟ وہ تو میں ہی تم کو لا کر دیتا ہوں۔”
“بس یوں سمجھ لو الله میاں نے آسمان سے ٹپکادی ہمارے آنگن میں۔” کسان نے سارا ماجرا سنایا کہ کس طرح چیل وہ مچھلی وہاں گرا گئی۔ مچھیرا یہ سن کر مسکرایا مگر کچھ بولا نہیں۔
جب کسان پہاڑی بابا کو مچھلی دینے گیا تو مچھیرا بھی اس کے ساتھ گیا۔ کسان نے پکی ہوئی مچھلی کا پیالہ پیش کیا اور دعا کی درخواست کی۔
درویش نے ان دونوں کو دیکھا اور پوچھا، “مچھلی کہاں سے آئی؟”
کسان نے کہا، “آسمان سے گری، بیوی نے منّت مانی تھی کہ اگر اسے مچھلی ملی تو وہ پہاڑی والے بابا کو پہلے کھلائے گی اور دعا کرائے گی کہ اس کا ہونے والا بچہ زندہ اور سلامت رہے۔”
اب درویش مچھیرے سے بولا، “تم کون ہو؟”
مچھیرے نے کہا، “میں مچھیرا ہوں۔ آج صبح دو مچھلیاں پکڑی تھیں۔ ایک میرے کنبے کی قسمت کی تھی اور دوسری چیل اٹھا کر لے گئی۔”
درویش سارا ماجرا سن کر بولا، “ہم سب نے مچھلی کھانے کی خواہش کی۔ الله نے ایک ہی وقت میں ہم سب کی خواہش جس انداز میں پوری کی، یہ اس کی ذات کا ادنی سا کرشمہ ہے۔ ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔”

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 5.0/5 (3 votes cast)
مچھلی سب کو ملی, 5.0 out of 5 based on 3 ratings