(جرمنی کے جریدے دیر سپیگل کی ویب سائٹ پر پندرہ جولائی کو شائع ہونے والی ایک  رپورٹ کا ترجمہ)

…………………………………

استنبول کا محلہ کمکپی ’بیلی ڈانسروں‘ کے لیے مشہور ہے جہاں وہ نشہ کرتے ہوئے افراد کے سامنے اپنی کمریں لہراتی ہیں، لیکن پیٹر کے لیے یہ وہ مقام ہے جہاں وہ جیل میں قید ہے۔کمکپی کی تین منزلہ جیل پر خفیہ کیمرے نصب ہیں اور داخلے پر مشین گنوں سے مسلحہ محافظ پہرا دیتے ہیں۔ گراؤنڈ فلور کے ایک کمرے میں پیٹر سفید ٹائلوں پر اپنے بیٹے کے سامنے دو زانو بیٹھا ہے۔ تین سالہ اویس جاننا چاہتا ہے کہ پولیس اسے(پیٹر کو) کیوں پکڑ کر لے گئی تھی۔ وہ اپنے باپ کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ وہ اسے کہتا ہے کہ ’اگر تم بہت نماز پڑھو گے تو یہ لوگ تمہیں جانے دیں گے۔‘ایک مسلح افسر باپ بیٹے کی اس ملاقات کو دیکھ رہا ہے۔ پیٹر اپنے بیٹے کے سر کے پیچے ہاتھ رکھ کر قرآن کی ایک سورۃ پڑھتا ہے جو اس کے مطابق اسے شیطان سے محفوظ رکھے گی۔’میں نے پاکستان اس سے لیے چھوڑا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے بچے دماغی طور پر کمزور ہوں‘۔ بات جاری رکھتے ہوئے پیٹر نے کہا کہ وہ اپنے ہم مذہبوں سے مایوس ہے جنہوں نے وڈیو پیغامات کی مدد سے اسے وزیرستان جانے پر رضامند کر لیا جو طالبان اور القاعدہ کا گڑھ ہے۔پیٹر نے کہا کہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہاں سکول اور ہسپتال ہیں۔ ’آپ اپنے بھائیوں پر اعتبار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے‘۔ اس نے اپنی بھنویں اوپر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں پرواز کرتے ہوئے ڈرونوں کے سوا کچھ نہیں تھا‘۔
کئی برسوں تک پاک افغان سرحدی علاقہ شدت پسندوں کا اہم مرکز تھا۔ جرمنی سے دو سو سے زیادہ رضاکار اکیلے یا اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ اس طرف روانہ ہوئے۔ پہلے جانے والوں نے انٹرنیٹ پر پیغامات کے ذریعے مزید لوگوں کو وہاں بلا لیا۔ زمین پر جنت کے وعدے کیے گئے یا کم سے کم اس سے ملتے جلتے کسی مقام کے۔ یہ جنگجو سکیورٹی اہلکاروں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھے۔ یہ جرمنی کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جانے لگے۔لیکن اب کچھ عرصے سے رجحان بدل گیا ہے۔ جانے والوں کی تعداد گھٹ رہی اور واپس لوٹنے والوں کا نمبر بڑھ رہا ہے۔پہاڑوں پر زندگی جیسا کہ انہیں متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی وڈیو فلموں میں دکھایا گیا تھا اُس سے کہیں مشکل ہے۔ امریکی ڈرونوں سے گرنے والے راکٹوں کی صورت میں آسمان سے مسلسل موت برستی ہے۔ جرمنی سے آنے والے کم سے کم ایک درجن جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
واپسی کا راستہ ترکی سے گزرتا ہے، جنکشن استنبول سے جو اس وقت ان علاقوں میں شامل ہے جن پر سب سے گہری نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ امریکہ، جرمنی اور ترکی کے خفیہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سب دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے۔
یہاں سے انہوں نے ایک پراپوگینڈا فلم میں کام کرنے والے برلن کے شہری تھامس کو گرفتا کیا تھا۔ یہیں سے برلن کے ایک اور رہائشی فتیح کو پکڑا گیا تھا جنہیں ’جرمن طالبانمجاہدین‘ کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔اور اب پیٹر بھی حراست میں ہے جسے جرمنی کے شہر سٹرٹگارڈ کے پبلک پراسیکیوٹر تلاش کر رہے تھے۔پیٹر پر الزام ہے کہ وہ ایک جرائم پیشہ تنظیم کا رکن ہے اور جہاد کے لیے بھرتیاں کرتا ہے۔
پیٹر کو ترکی میں انسداد دہشتگردی کے یونٹ نے ستائیس جون کو پکڑا تھا اور اسے گزشتہ ہفتے جرمنی کے حوالے کر دیا گیا۔ پیٹر اور اس کی اہلیہ کا سفر اِس دور کے ان نوجوان مسلمانوں کا مخصوص سفر ہے جنہوں نےجرمنی میں انتہاپسندی کو اپنایا، جنگ کے لیے گئے اور اب واپسی پر حکام کے قابو میں ہیں۔
اکتیس سالہ پیٹر بی کا اسلامی نام عمار ہے۔ ایک انٹرنیٹ وڈیو میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک دوست کی موت کے بعد مسلمان ہو گیا تھا۔ اس وقت وہ موبائل فونوں کی ایک دکان میں کام کرتا تھا اور رات کے سکول میں زیر تعلیم تھا۔ وہ اُلم کا رہائشی تھا جہاں انتہا پسندی قدم جما چکی تھی۔ یہ لوگ ’الم اسلامی انفارمیشن سنٹر‘ میں اکٹھے ہوتے جہاں پیٹر خزانچی اور سیکرٹری تھا۔
سن دو ہزار چار میں میونخ کے پبلک پراسیکیوٹر نے ابتدائی انکوائری کا آغاز کیا۔ اس وقت پیٹر ایک جریدے ’تھنک اسلام‘ کا بھی مدیر تھا جس میں حکام کے مطابق سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کے راستے کو جائز قرار دیا گیا تھا۔پیٹر کا نام بھی ملزمان میں تھا لیکن اس کے خلاف تفتیش معطل کر دی گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ صرف ’دعوت‘ کا کام کرتا ہے اور لوگوں کو اسلام کی طرف لے کر آتا ہے۔
اس کے بعد تفتیشکاروں نے ایک بار ’سارلینڈ سیل‘ کے خلاف تفتیش کے دوران پیٹر کا سامنا کیا۔ ان لوگوں پر جرمنی کے اندر حملے کی تیاری کا الزام تھا اور کہا گیا تھا کہ ایک ملزم کے پاس پیٹر کی مرسڈیز تھی۔ پولیس کو اس کار سے ایک سکینر بھی ملا۔ اس کے بعد سے پیٹر کا نام فائلوں میں ایک ’کانٹیکٹ‘ کی حیثیت سے آنے لگا۔ تاہم تفتیشکار اس سے زیادہ کچھ ثابت نہیں کر سکے کہ اس کے دہشت گردوں کے ساتھ دوستانہ روابط ہیں۔
پیٹر کے شدت پسندوں اور پر امن مسلمانوں دونوں سے روابط تھے۔ لیکن اب اس کے خلاف ایک دہشت گرد تنظیم کی حمایت کا الزام ہے۔ اس کے بارے میں اس کے ایک سابق ساتھی نے یہ بھی بتایا کہ وہ ازبکستان کی ’اسلامی تحریک کا حصہ بننا چاہتا تھا‘ لیکن سمجھانے پر ارادہ بدل دیا۔
استنبول کی جیل میں پیٹر نے، جس کی لمبی داڑھی کی جگہ تین دن کی داڑھی نے لے لی ہے، بتایا کہ ’مجھے مجاہدین سے پیار ہے لیکن میرا ان تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں۔‘ اس کی تئیس سالہ اہلیہ سارہ جیل سے چند کلومیٹر دور استنبول کے ’لٹل ایران‘ کہلانے والے اسلامی محلے میں موجود تھی۔ یہاں خواتین نقاب پہنتی ہیں اور مرد جلابہ۔ برقعے کے اندر اپنی بچی کو دودھ پلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے زیادہ جلد دیکھنا پسند نہیں‘۔
پیٹر نے وزیرستان پہنچنے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں ان کے خلاف جاری ہونے والے وارنٹوں نے انہیں ہندو کش بھاگنے پر مجبور کیا۔ اس وقت وہ مصر کے شہر اسکندریہ میں ایک الگ تھلگ محلے میں رہ رہے تھے جہاں انہیں وارنٹ جاری ہونے کی اطلاع ملی۔ ’میں بھی انسان ہوں اور میں ڈر گیا تھا‘۔یہ لوگ اسی رات فرار ہو گئے تھے۔
سارہ نے بتایا کہ جب انہوں نے پاکستان کا نام سنا تو ان کی آنکھیں باہر آ گئیں۔ ’مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہاں پیمپر بھی ملیں گا یا نہیں‘۔
پیٹر نے کہا کہ وزیرستان واحد جگہ تھی جہاں جرمنی کے وارنٹ بے اثر تھے۔ ’میں وہاں اسلامی زندگی گزارنا چاہتا تھا‘۔ پیٹر نے بتایا کہ ابتدائی چند ماہ بہت مشکل تھے۔ وزیرستان پہنچنے پر پہلے پہل وہ کچھ عرصہ ایک مکان میں رہے جہاں سے القاعدہ نے انہیں، بقول ان کے، اس وجہ سے نکال دیا تھا کہ وہ لڑائی میں حصہ لینے پر تیار نہیں تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں تیس کے قریب تنظیمیں تھیں جو سب ایک دوسرے سے خوش نہیں تھیں۔ کئی روز تک پیٹر اور سارہ کو گلیوں میں سونا پڑا۔ بالآخر جرمنی سے پیٹر کی والدہ کی طرف سے پیسوں کی صورت میں امداد ان تک پہنچی۔ انہوں نے ساڑھے تین سو یورو کا ایک کچا مکان اور ساڑھے چار سو یورو کا موٹر سائیکل خریدا۔
“پیٹر یاد کرتا ہے کہ جب اس نے پیپسی کی قیمت معلوم کرنا چاہی تو دکان پر لڑکی نے پہلے ہاتھوں کی انگلیوں سے اور پھر دونوں پیروں کی انگلیوں سے گن کر بتایا کہ یہ بیس روپے کی ہے۔ انہوں نے سوچھا کہ ان کا بیٹا اتنا کم عقل نہیں ہوگا”
جب انہیں گھر کی یاد آتی تو وہ شہر میں ’یورپی دکانوں‘ کی طرف نکل جاتے جہاں ’نٹیلا، بال بنانے والی کریم نوِیا اور بچوں کے لیے کوکو‘ سب جرمن پیکنگ میں میسر تھا۔ انہیں پیپسی بھی مل گئی۔ پیٹر یاد کرتا ہے کہ جب اس نے پیپسی کی قیمت معلوم کرنا چاہی تو دکان پر لڑکی نے پہلے ہاتھوں کی انگلیوں سے اور پھر دونوں پیروں کی انگلیوں سے گن کر بتایا کہ یہ بیس روپے کی ہے۔ انہوں نے سوچھا کہ ان کا بیٹا اتنا کم عقل نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں اگر نل خراب ہو جائے تو خراب ہی رہتا ہے، آٹھ بجے آنے والی بس کبھی بھی نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی نظام نہیں جیسا کہ یہاں ہے۔ ایک بار وہ سارہ کو بازار ساتھ لے گئے تو کئی ہفتوں تک ان کے پڑوسی ان کے بارے میں باتیں بناتے رہے کہ اسے گھر سے نکلنے کی اجازت کیوں دی۔پیٹر نے کہا کہ اس کی بیوی کوئی جانور نہیں جسے گھر میں بند رکھا جائے۔
وہ ایک برس تک اس شہر میں رہے جو ان کے لیے بالکل اجنبی تھا۔ ’اگر آپ وہاں سے فوراً نکلنا چاہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ آپ جاسوس ہیں‘۔ میر علی اور اس کے گرد و نواح میں دن کا معمول ڈرون کی آواز طے کرتی ہے۔ پیٹر نے بتایا کہ جب راکٹ دور گرتا ہے تو دھویں کے بادل دکھائی دیتے، اور جب ایک دن ان کے ساتھ والے گھر میں گِرا تھا تو زمین ہل گئی تھی۔
پیٹر امداد لینے گیا اور جب واپس آیا تو کٹے ہوئے بازؤوں اور ٹانگوں اور گلیوں میں لاوارث پھِرنے والے یتیم بچوں کا ذکر کر رہا تھا۔
پیٹر کم ہی صحیح طرح سو سکا اور سارہ کو یہی خیال آتے رہے کہ ان حملوں کا شکار اس کا خاوند اور بچے بھی ہو سکتے ہیں۔ سارہ اس وقت حاملہ تھی۔ پیٹر اسے اس جگہ لے گیا جسے ہسپتال کہا جا رہا تھا۔ زچگی وارڈ ایک طویل گیلری پر مشتمل تھا جس کے دروازے بند نہیں تھے اور خواتین کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں اور زمین پر گندگی تھی۔
“وہ بالکل قرون وسطیٰ کی طرح تھا۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اس دنیا میں اپنے بچوں کو بڑا نہیں کروں گی”
سارہ
سارہ نے کہا کہ وہ بالکل ’قرون وسطیٰ کی طرح تھا۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اس دنیا میں اپنے بچوں کو بڑا نہیں کروں گی‘۔ بچے کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل اس جوڑے نے، گرفتاری کے وارنٹ کے باوجود، پاکستان چھوڑنے کا فیصلے کیا۔ واپسی کا سفر ایک منشیات کے سمگلروں سے بھرے ایک ٹرک میں شروع ہوا۔ ’بدبودار نشہ کرتے ہوئے مردوں نے ہمیں آٹے کی بوریوں سے زیادہ نہیں سمجھا اور نماز کے اوقات کا بھی خیال نہیں رکھا‘، سارہ نے بتایا۔اس کے بعد ایران کے پہاڑوں پر پیدل سفر تھا۔ اسی دوران ایرانی سرحد کے قریب ان کی بیٹی شہیدہ پیدا ہوئی۔ پیٹر جرمنی نہیں آنا چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ لوگ اس کی بیوی کو نقاب پہننے پر ’دہشت گرد‘ یا ’پینگوین‘ کہیں گے۔ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ میں جرمنی کے لیے یا جرمنی میرے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرے‘۔پیٹر نے اقوام متحدہ کو بھی درخواست بھیجی لیکن بے سود۔ اسے ترکی کے حکام نے جولائی کے اوائل میں جرمنی کے حوالے کر دیا۔دو روز کے بعد اس کے بیوی اور بچے بھی جرمنی پہنچ گئے۔پیٹر سلاخوں کے پیچھے اپنے خلاف مقدمے کا اور ناکافی شواہد کی صورت میں رہائی کا منتظر ہے۔وزیرستان میں اس نے اپنی بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ اگر انہیں دوبارہ جرمنی جانا پڑا تو وہ وہاں سے مالدیپ چلے جائیں گے۔ پیٹر کا کہنا ہے کہ مکّہ کے بعد وہ سب سے خوبصورت مقام ہے، لیکن ظاہر ہے، جنت کو چھوڑ کر۔

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)