“اپنے حصے کی نیکی ضرور کمائیے ، زندگی کو فضول ضا ئع نہ کیجئے !”
————————————————————————————-
نمرود بادشاہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ جلانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ایک بڑے میدان میں آگ بھڑکائی جا رہی تھی
دور دور سے جنگل کاٹ کر لکڑیاں لاکر اس آگ میں ڈالی جا رہی تھیں کئی ہفتوں کی محنت سے آگ بھڑک اٹھی اس کے شعلے آسمان تک پہنچ رہے تھے۔ اس کا دھواں چاروں طرف پھیل کر لوگوں کو ہیبت زدہ کررہا تھا ۔

اس بھڑکتی ہوئی آگ سے دور ایک پر بہار چمن میں ایک چھوٹی سی فاختہ کا نشیمن تھا۔ جس میں وہ سکون سے
زندگی گزار رہی تھی اس کے قریب ہی ایک الو کا گھونسلہ تھا جو رات کو گشت کرکے دنیا جہان کی خبریں جمع کیا کرتا تھا۔

جب بھڑکتی ہوئی آگ کا دھواں فاختہ کے نشیمن تک پہنچا تو اس نے گھبرا کر الو سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟
الو نے کہا تم کو معلوم نہیں ہمارے بادشاہ نے ابراہیم کو زندہ جلانے کے لئے آگ دہکائی ہے۔ فاختہ کا کلیجہ دھک سے رہ گیا
اس نے گھبرا کر پوچھا کون ابراہیم وہی خلیل اللہ ۔ الو نے اپنی آنکھیں چمکا کر کہا ہاں وہی ابراہیم ۔
یہ خبر سن کر فاختہ بے اختیار رونے لگی اس نے چیخ کر کہا نہیں نہیں! ایسا نہیں ہوسکتا! اللہ کے دوست کو کوئی نہیں جلا سکتا۔
الو نے ہنس کر کہا تم کون چیز ہو روکنے والی، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔
فاختہ نے روتے ہوئے کہا نہیں نہیں !میں ایسا نہیں ہونے دونگی۔ وہ پھڑپھڑاتی ہوئی اپنے نشیمن میں لوٹ آئی
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ۔

اس نے اپنے بچوں پر الوداعی نظر ڈالی اور نشیمن سے نکل گئی ۔ اس نے گڑگڑاکر دعا کی ’’اے میرے رب! ابراہیم کو بچالے‘‘۔
وہ قریب کے چشمے پر گئی اور اپنی چونچ میں پانی بھر کر تیزی سے پھیلی ہوئی آگ کی طرف اڑنے لگی آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے لیکن فاختہ کی زبان پر ایک ہی دعا تھی میرے رب! ابراہیم کو بچالے اور اس کی چونچ میں پانی کے چند قطرے تھے۔ جن سے وہ بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھانا چاہتی تھی جب وہ شعلوں کے قریب پہنچی اور آگ سے اس کے پر جلنے لگے تو اس نے وہ چونچ بھر پانی آگ پر ڈال دیا اور پھر تیزی سے دوبارہ چونچ بھرنے کیلئے چشمہ کی طرف پلٹی فاختہ نے کئی پھیرے لگائے ۔ وہ تھک کر چور ہوگئی ۔ آگ کی گرمی سے اس کے بازو شل ہوگئے، بالآخر وہ اپنے نشیمن کے قریب بے دم ہو کر زمین پر گر پڑی۔

الو جو یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا اس نے زور کا قہقہہ لگایا اور کہا ’’بے وقوف چڑیا یہ چونچ بھر پانی سے آگ کا دریا بجھانے چلی تھی‘‘۔ فاختہ نے چمک کر کہا تم کیا جانو میں نے اپنا انعام پا لیا۔ جب میرا مولا مجھ سے پوچھے گا کہ اے فاختہ ہم نے تم کو تمام نعمتیں دیں تھیں لیکن جب ہمارا خلیل آگ میں ڈالا جارہا تھا تب تم نے کیا کیا؟
تب میں عرض کروں گی میرے مولا !میں نے اپنی بساط بھر کوشش آگ بجھانے میں لگادی، فاختہ نے یہ کہتے کہتے دم توڑ دیا اور الو سوچنے لگا یہ چھوٹی سی چڑیا جیت گئی ۔ افسوس میں طاقتور ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکا۔

دنیا کے ہر دور میں نمرود اور ابراہیم علیہ السلام کی کشمکش جاری ہے ۔
آج بھی آگ ہے اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے

چاروں طرف پھیلی ہوئی آگ کو بجھانے کی کیا ہم کوئی کوشش کررہے ہیں یا صرف تماش بین بنے بیٹھے ہیں ؟؟

یہ فیصلہ ہم کو کرنا ہے کہ ہم فاختہ کے خانے میں ہیں یا دوسرے خانے میں۔

اگرکہیں یتیم خانے کا چندہ ہو رہا ہو تو کوشش کیجئے کہ آپ کی طرف سے کوئی لقمہ ان کے پیٹ میں اترجائے
اگر کوئی مسجد تعمیر ہو رہی ہو تو آپ کے نام کی بھی ایک اینٹ اس میں لگ جائے اور
قیامت کے دن آپ کے حق میں سفارش بن جائے۔

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 5.0/5 (1 vote cast)
اپنے حصے کی نیکی ضرور کمائیے ، زندگی کو فضول ضا ئع نہ کیجئے !", 5.0 out of 5 based on 1 rating