حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو خوش الحان تھا۔ وہ مختلف محفلوں میں اشعار وغیرہ سنا کر (گانا نہیں) کچھ پیسے کما یا کرتا تھا۔ وہ شخص بوڑھا ہو گیا۔ آواز بیٹھ گئ۔ کمائی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ نوبت فاقوں پر پہنچ گئی۔

ایک دن بھوک کے عالم میں جنت البقیع کے قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گیا اور اللہ سے باتیں کرنے لگا۔ “اے اللہ جب تک جوان تھا۔ آواز ساتھ دیتی تھی۔ کماتا تھا اور کھاتا تھا۔ اب آواز بیٹھ گئی ہے۔ بھوک لگی ہے ۔ پہلی بار تیرے در پہ آیا ہوں۔ مایوس نہ لوٹانا۔“
حضرت عمر رضی اللہ تعالی مسجد نبوی کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ خواب میں آواز آئی “اٹھ میرا ایک بندہ جنت البقیع میں مجھے پکار رہا ہے۔ اس کی مدد کو پہنچ، عرش ہل رہا ہے۔۔۔“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ننگے پاوں بھاگے۔ اس بوڑھے نے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو آتے دیکھا تو اٹھ کر بھاگا کہ شاید مجھے مارنے آرہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ “مت بھاگ میں خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہوں۔“ بوڑھے نے پوچھا “کس نے بھیجا ہے۔؟“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اسی ذات نے بھیجا ہے جس کو پکار رہے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بوڑھے نے زندگی میں پہلی بار اللہ کو پکارا اور پکارا بھی تو روٹی کیلئے ۔ لیکن اللہ نے اپنے بندے کو مایوس نہ کیا۔

اللہ سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ علماء بتاتے ہیں کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے مضطرب ہونا شرط ہے۔ دل سے اللہ کو پکاریئے۔ وہ ضرور پہنچے گا۔ صرف ہاتھ اٹھا لینا اور خیال کا کہیں اور بھٹک رہا ہونا دعا کی صحت کے
خلاف ہے
۔

اقتباس از : تقریر مولانا طارق جمیل صاحب

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)