ايک مرتبہ ايک عورت حضرت بايزيد بسطامی رحمہ اللہ علیہ کي خدمت ميں حاضر ہوئي اور اُن سے شکايت کي کہ ميرا خاوند دوسري شادي کرنا چاھتا ہے ۔ اسليئے آپ اسے روک ديں يا اس طرح دُعا مانگيں کہ وہ اپنے اس ارادے سے باز آجائے ۔

بایزید رحمہ اللہ علیہ نے فرمايا : “بہن ! جب اللہ تعالي نے مرد کو چار تک بيوياں کرنے کي اجازت دي ہے تو پھر ميں کون ہوتا ہوں جو قانون شریعت ميں در آؤں اور اللہ کے حکم کي خلاف ورزي کا ذريعہ بنوں ۔ ”

اس پر وہ عورت بہت دل برداشتہ ہوئي اور بایزید بسطامی رحمہ اللہ علیہ کو کہنے لگی : “حضرت ! ميں پردہ دار عورت ھوں اور شريعت اجازت نہيں ديتي کہ ميں آپ پر اپنا چہرہ ظاہر کروں ، اگر شريعت اجازت ديتي اور ميں آپ کو اپنا چہرہ دکھاتي تو پھر آپ فيصلہ فرماتے کہ آيا ميرے خاوند کو سوکن لانے کا حق حاصل ھے يا نہيں ؟

يہ جواب سُننا تھا کہ بایزید رحمہ اللہ علیہ بے ہوش ہو گئے ۔ ہوش آنے پر فرمايا : ” ديکھو ! ايک عورت جس کا حسن و جمال جو کہ فاني ہے ، اپنے حسن وجمال پر اس قدر نازاں ہے کہ اس پر سوکن لانا پسند نہيں کرتي اور اپني توہين سمجھتي ھے ۔ تو وہ رب ذوالجلال اور خالق کائنات جو حسن وجمال کا خالق اور ساري کائنات کا خالق ھے کيونکر گوارہ کرسکتا ہے کہ مخلوق کسي کو اسکا شريک ٹھہرائے ۔
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو ایک آواز آئے گی : اے اہل جنت ! اللہ کے ہاں تمھارے ساتھ کیا ہوا ایک وعدہ پورا کرنا باقی ہے ۔ ( جنتی ) کہیں گے وہ وعدہ کیا ہے ؟ کیا اس نے ہمارے میزان عمل کو بھاری نہیں فرمایا اور چہروں کو سفید نہیں کیا اور جنت میں داخل نہیں کیا اور ہمیں دوزخ سے نجات نہیں عطا کی ؟
فرمایا کہ پھر پردہ اٹھا دیا جائیگا اور وہ اللہ پاک کو دیکھیں گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اہل جنت کو حاصل ہونے والی نعمتوں میں سے کوئی بھی نعمت اللہ پاک کے دیدار سے زیادہ محبوب نہ ہوگی ۔

ترمذی / ابن ماجہ / مسند احمد

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)