‎”چاندنی رات میں
خلیفہ ہارون رشید ایک مرتبہ اپنی ملکہ کے ساتھ چاندنی رات میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ملکہ کا حسن و جمال دیکھ کر بے ساختہ اس کی زبان سے نکل گيا :
أِن لَم تَكُونِي أَحسَنَ مِنَ القَمَرِ فأَنتَ طَالِق
” اگر تم اس چاند سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو تو تمہیں طلاق ! ”

اس کی زبان سے کلمہ نکل تو گيا مگر اب وہ پچھتا رہا تھا کہ میں نے کیا کہـ دیا ۔
پھر اس نے زمانے کے بڑے بڑے علماء سے اپنی اس بات سے متعلق فتویٰ دریافت کیا ۔ سب نے کہا : ” طلاق ہوگئی ”
لیکن اس وقت کے مشہور عالم یحییٰ بن اکثم نے ان تمام کی مخالفت کی اور فتویٰ دیا کہ طلاق نہیں ہوئی ۔
پوچھا گيا کہ کس بنیاد پر آپ نے مشائخ کے فتووں کی مخالفت کی ۔
یحییٰ بن اکثم نے کہا : فتویٰ علم و دلیل کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں اس ہستی نے فتویٰ صادر کیا کہ جس کے علم سے ہمارے علم کی کوئی نسبت ہی نہیں ہے ۔
ارشاد ہے :
لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم ( التين:95 – آيت:4 )
” یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے ”

کتاب : سنہری کرنیں
مصنف : عبد المالک مجاھد

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)