ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زبدانی لے جایا کرتا تھا اور اسی کرایہ پرمیری گذر بسر تھی . ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر کرائے پر لیا میں نے اسے سوار کیا اور لے چلا ایک جگہ دو راستے تھے ، جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ سے چلو، میں نے کہا میں اس راہ سے ناواقف ہوں . سیدھی راہ تو یہی ہے ، اس نے کہا نہیں ، میں پوری طرح واقف ہوں . یہ بہت نزدیک کا راستہ ہے اس کے کہنے سے اسی راہ چلا. تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ہم یکایک بیابان میں آگئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا. نہایت خطرناک جنگل ہے اور ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں میں سہم گیا. وہ مجھ سے کہنے لگا : ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے. میں نے لگام تھام لی اور وہ اترا اور اپنے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا . میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑ لیا. میں نے اس کی منت و سماجت کی لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا. میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے. اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں توتجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا. میں نے اسے ﷲ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا. اب میں مایوس ہوگیا، اور مرنے کیلئے تیار ہوگیا اور اس سے بامنت التجا کی کہ آپ مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دیجئے. اس نے کہا: اچھا جلدی پڑھ لے میں نے نماز شروع کی لیکن ﷲ کی قسم ! میری زبان سے قرآن مجید کا ایک حرف بھی نہیں نکلتا تھا یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا ہوا تھا اور وہ جلدی مچا رہاتھا. اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی ” امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء ” (( ﷲ ہی ہے جو بے قرار کی بے قراری کے وقت دعا کو سنتا ہے اور قبول فرماتا ہے اور بے بسی ، بے کسی ، سختی اور مصیبت کو دور کردیتا ہے). پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھاجو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھوڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہا ہے اور بغیر کچھ کہے ڈاکوکے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھسیڑ دیاجو اس کے جگر کے آرپار ہوگیا . وہ اسی وقت بے جان ہو کر گر پڑا. سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور کہنے لگا :” ﷲ کیلئے یہ تو بتلاؤ کہ تم کون ہو ؟” اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں ، بے کسوں اور بے بسوں کی دعا قبول فرماتا ہے . اور مصیبت و آفت کو ٹال دیتا ہے. میں نے ﷲ کا شکر ادا کیا اور وہاں سے اپنا خچر اور مال لے کر صحیح سالم واپس لوٹا. لہ دعوة الحق اسی کو پکارنا حق ہے اس کے سوا نہ کوئی پکار سن سکتا اور نہ مصیبتوں اور پریشانیوں کو دور کرسکتا ہے .
(تفسیرابن کثیر ، جلد4)
( ”صحیح اسلامی واقعات ”، صفحہ نمبر 154-152)

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)