◄نکاح کے معنی و مفہوم:-► لسان العرب میں علامہ منظور لکھتے ہیں کہ کلام عرب میں نکاح کا مطلب وطی یعنی عمل ازدواج ہے

اور تزوج کو یعنی شادی کو بھی نکاح اس لیے کہتے ہیں کہ وہ عمل ازدواج کا سبب ہے

●●●●●●●●●●●

نکاح کے ارکان►

◄ایجاب:-► ایجاب وہ کلام ہے جو پہلے بولا جاتا ہے وہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے مثلا مرد عورت سے یا عورت مرد سے کہے کہ میں تجھ سے نکاح کرتا ہون یا کرتی ہوں
قبول:۔ پہلے ایجاب کے جواب کو قبول کہتے ہیں اس کے جواب میں عورت مرد کو یا مرد عورت کو کہے میں نے قبول کیا

●●●●●●●●●●●

◄ نکاح کی شرائط►

نکاح کی تین شرائط ہیں جن کا نکاح سے پہلے پایا جانا ضروری ہے

◄عاقل ہونا:-► نکاح کے لیے عقل ہونا ضروری ہے مجنون یا نا سمجھ بچے سے نکاھ کیا تو نکاح منقعد نہیں ہو گا

◄بالغ ہونا:-► بالغ ہونا نفاظ نکاح کیلیے شرط ہے انعقاد نکاح کی نہیں مطلب اگر کسی نے بالغ ہونے سے پہلے نکاح کر لیا تو نکاح تو ہو جائے گا لیکن نکاح کا نفاذ نہیں ہوگا

◄گواہ ہونا:-► نکاح یعنی قبول کے لیے ضروری ہے کہ دو مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں گواہ آزاد بالغ مسلمان ہوں اور سب نے ایک ساتھ نکاح کے الفاظ سنے ہوں پاگلوں کی گواہی قابل قبول نہیں اور نہ غلام کی مسلمان مرد عورت کا نکاح کافر کی شہادت سے نہیں ہو سکتا

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)