اس کے ہاتھ نے اپنی ماں کے پلو کو تھام رکھاتھا۔چھوٹا ساہاتھ ۔۔۔کمزور سا ہاتھ۔۔۔معصوم سا ہاتھ۔یہ بچہ سال بھر کا بھی نہیں ہوگا۔باپ آگے بیٹھاموٹر بائیک چلارہا تھا اور اس کے پیچھے ماں اپنے بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔اس نے ایک ہاتھ سے موٹر بائیک کی سیٹ کواور دوسرے ہاتھ سے بچے کو پکڑ رکھا تھا۔اس پورے منظر میں م
یرے لیے کوئی نئی بات نہ تھی سوائے اس چھوٹے سے ہاتھ کے۔۔۔جس نے ماں کے پلو کو پکڑ رکھاتھا۔
میں نے سوچا کہ اگر اس بچے کی ماں اپنے ہاتھ کی گرفت برقرار نہ رکھ سکے تو کیا یہ چھوٹا سا ہاتھ ، یہ معصوم سی مٹھی ،اتنی طاقتور ہے کہ خود کو گرنے سے روک سکے۔ میرے ذہن نے کہا ،’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ بچہ نہیں بلکہ ماں ہے جو اسے سنبھالے ہوئے ہے ‘‘ ۔
میں اس سے قبل گرمی کے روزوں کی مشقت اور اس کے اجر پر غور کررہا تھا، مگر اس منظر کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ جہنم کے گڑھے میں ہمیں گرنے سے اگر کوئی بچاسکتا ہے تووہ ہماری عبادت کا کمزور ہاتھ نہیں بلکہ پروردگار کی رحمت کا طاقتور ہاتھ ہے۔جنت کی منزل تک ہماری رسائی ہو ہی نہیں سکتی اگر مالک دو جہاں کا شفقت بھرا ہاتھ ہمیں نہ سنبھالے ہوئے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ساری مذہبیت اور عبادات بھی دراصل خدا کی دی ہوئی توفیق کی مرہون منت ہیں۔اسی نے ہماری ساری دینداری کا بھرم رکھا ہوا ہے۔ وہ اگر ہم پر مطالبات اور آزمائشوں کے بوجھ ڈالدے تو ہماری ساری دینداری کی پول کھل جائے گی،(محمد34:47)۔
میں نے سر اٹھایا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ روزہ داروں نے روزہ کی مشقت اٹھاکر تیرا قرب چاہا ہے۔ لیکن یہ مشقت اس بچے کے کمزور ہاتھ سے زیادہ نہیں جس نے اپنی ماں کا دامن پکڑ رکھا تھا۔ ماں کے ہاتھ کو بچے کا سہارا بنانے والے، اپنے طاقتور ہاتھ کو آگے بڑھادے۔وگرنہ دنیا کی کوئی طاقت ان بندوں کو جہنم سے نجات اور جنت کی کامیابی کا حقدار نہیں بناسکتی ۔

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)