انیسویں صدی کا زمانہ تھا۔ یورپ کے اہل مذہب اور اہل سائنس کے مابین کشمکش اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ پچھلی تین صدیوں سے اہل کلیسا، سائنس دانوں  کو دباتے چلے آئے تھے۔ جدید طرز فکر کے حامیوں جن میں گلیلیو، لیونارڈو ڈا ونسی اور نجانے کتنے ہی دوسرے تھے، جو اہل کلیسا کے تشدد کا نشانہ بنے تھے۔ ان اقدامات نے مذہب کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچایا لیکن جدید طرز فکر کے حامل لوگوں میں مذہب کے خلاف ایک خوامخواہ کی نفرت پیدا کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے حیلے بہانے سے خدا کے وجود کا انکار کرنا شروع کر دیا۔ مذہب سے نفرت کی یہ لہر کالونیل آقاؤں سے مسلمانوں کے اندر بھی داخل ہوئی مگر اس میں زیادہ شدت پیدا نہ ہو سکی اور مسلمانوں کی غالب اکثریت دین سے وابستہ رہی۔

بیسویں صدی کی سائنسی دریافتوں نے  علم و عقل رکھنے والے انسان کو اس بات پر مجبور کیا کہ کائنات کا ایک خدا ہے اور وہی اس کا نظام چلا رہا ہے مگر اسی عقیدے کا دوسرا جزو کہ انسان اس کے سامنے اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے، نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گیا۔ اس صدی کو بلا مبالغہ امریکہ کی صدی کہا جا سکتا ہے۔ اہل امریکہ کی اکثریت ملحد نہیں بلکہ زیادہ تر مذہب کی ماننے والی ہے مگر ان لوگوں نے خدا کے ساتھ تعلق کو بس سنڈے سروس تک محدود کر کے رکھ دیا ہے اور زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کہ ہم اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہیں، پس منظر میں چلی گئی ہے۔ امریکہ کے غلبے کے ساتھ یہ تصور دنیا کے باقی حصوں میں بھی ایکسپورٹ ہوا جس میں امریکی تصورات سے متاثر مسلم دنیا بھی شامل تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہم مسلمان اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت کی زندگی پر بھی یقین رکھتے ہیں مگر کنزیومر ازم اور مادیت پرستی کی دوڑ نے ہمیں زندگی کی اس سب سے بڑی حقیقت سے غافل کر دیا ہے۔

اردو زبان بولنے والوں میں اگرچہ کتاب سے تعلق ٹوٹتا جا رہا ہے اور الیکٹرانک میڈیا نے لوگوں کی توجہ کو زیادہ کھینچ لیا ہے مگر پھر بھی ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو اب بھی کتابیں پڑھتے ہیں۔ اگرچہ اس معاملے میں اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں مگر میرا تجربہ ہے کہ انٹرنیٹ کے فروغ کے ساتھ ہزاروں کتابیں بلا معاوضہ دستیاب ہو جانے سے کتاب پڑھنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی انسان کے ذہنی ارتقاء میں کتاب جو کردار ادا کر سکتی ہے، وہ الیکٹرانک میڈیا کے بس کی بات نہیں ہے۔

کتاب پڑھنے والے دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو سنجیدہ علمی کتابیں پڑھتے ہیں اور دوسرے وہ جو ہلکا پھلکا ادب پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہمارے دینی طبقے نے پہلی قسم کے لوگوں کے لیے بہت کچھ  لکھ دیا ہے اور لکھتے رہتے ہیں مگر  دوسری قسم کے لوگوں کے لیے ایسا لٹریچر نہ  ہونے کے برابر ہے جس میں قاری کی تفریح طبع کے ساتھ ساتھ کچھ اصلاح و تذکیر کی بات  کہی جا سکے۔ اپنے کچھ دوستوں کے علاوہ میں نے بھی “سفر نامہ” کی صنف سخن کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے ایک دوست ابو یحیی نے اس ضمن میں “ناول” کی صنف سخن کو اللہ تعالی کا پیغام پہنچانے کے لیے شاید پہلی مرتبہ استعمال کیا ہے جس کے لیے وہ تحسین کے مستحق ہیں۔

اگرچہ اردو ادب کی تاریخ میں اصلاح و تذکیر اور اخلاقی تربیت کے لیے ناول کا استعمال نیا نہیں ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد اس ضمن میں ایک کامیاب کوشش پہلے ہی  کر چکے ہیں مگر ابو یحیی نے اپنے ناول  کے لیے ایسا پلاٹ چنا ہے جو اس سے پہلے شاید کسی کے وہم و گمان میں نہ آیا ہو گا۔ اس پلاٹ کا موضوع ہے: انسان کی اصل زندگی۔ یہ بات تو طے ہے کہ ہم محض ساٹھ ستر برس کی جو یہ زندگی گزار رہے ہیں، یہ حقیقی زندگی نہیں ہے بلکہ محض ایک آزمائشی زندگی (Test Life) ہے جس میں ہمیں اپنی اصل زندگی گزارنے کے لیے پرکھا جا رہا ہے۔  ہم موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتے ہیں مگر درحقیقت اس سے ہم اپنی اصل زندگی کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف نے اس کتاب کا عنوان ہی یہ رکھ دیا ہے کہ “جب زندگی شروع ہو گی”۔

ناول کی تھیم یہ ہے کہ کنزیومر ازم اور مادیت پرستی کے جس رجحان نے ہمیں کروڑوں اربوں برس بلکہ اسے سے بھی زائد اپنی اصل زندگی سے غافل کر کے اس چھوٹی سی آزمائشی  زندگی کو اصل بنا کر رکھ دیا ہے، اس سے لوگوں کو جھنجھوڑ کر جگایا جائے اور بتایا جائے کہ اصل زندگی یہ نہیں جس کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں بلکہ اصل زندگی وہ ہے جسے ہم فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ ہمارا دین ہمیں ترک دنیا اور رہبانیت کی تلقین نہیں کرتا اور نہ ہی مادیت پرستی اور کنزیومر ازم کے سیلاب میں بہنے کی ہدایت کرتا ہے۔ دین اور دنیا میں صحیح توازن پیدا کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ ناول کے کردار اور ان کے مکالمے اتنے جاندار ہیں کہ انسان خود کو ان کے آس پاس محسوس کرتا ہے۔

یہ ایک خاندان کی کہانی ہے جس کا ہر فرد اپنی اپنی دنیا میں مگن تھا۔ خاندان کا سربراہ دین کا ایک داعی تھا جس کی اولاد اس کے نقش قدم پر نہ چل سکی۔ یکایک ان سب کی آزمائشی زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور پھر  ۔۔۔۔۔ وہ اپنی اصل زندگی میں داخل ہو گئے۔ یہاں ان کے ساتھ کیا ماجرا پیش آیا، اس کی تفصیل کے لیے آپ کو اس ناول کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔

ابو یحیی محض ایک ناول نگار ہی نہیں بلکہ قرآن و سنت کے ایک عالم ہیں۔ ان کی تحریر اگرچہ مولویانہ اسلوب کی نمائندگی نہیں کرتی ہے مگر انہوں نے اس نازک موضوع پر قلم اٹھاتے وقت جس درجے میں اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ان کی کوئی بات قرآن و حدیث سے تجاوز نہ کرے، اس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔  مصنف اپنے قارئین کے ساتھ خلوص کے جس درجے پر ہیں، انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ اپنے قارئین کو ان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سے آگاہ کرتے چلیں تاکہ وہ اس آزمائشی زندگی میں اپنی اصل زندگی کے لیے زاد راہ اکٹھا کر سکیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس کی مدد سے اس کے قارئین کو  اپنی اصل زندگی کی تیاری کی توفیق مرحمت فرمائے۔

محمد مبشر نذیر

Read in Pdf Or Wait for next Episode.