اٌج سال کی اٌخری رات ہے ___

مجھے یاد ہے
پچھلے سال انہی دنوں میں
میں نے تمہیں اپنے اندر
ساتویں بار قتل کر کے وہیں کہیں
کسی ویرانے میں دفن کیا تھا
اور تمہاری قبر
فراموشی کے بھاری پتھروں سے بھر دی تھی
اور اس سے پہلے اک بار
دور دراذ سے اٌنے والے کسی دیو ہیکل
پرندے کے پیروں سے
تجھے باندھ کر اُڑا دیا تھا
اور پھر اس سے بھی پہلے انہی دنوں میں
میں نے تمہں مکمل طور پر جلا کر
تمہاری راکھ ایک تیز رفتار دریا میں
بہا دی تھی
لیکن اس ساری جان کہی کے باوجود
تم آج پھر ہمیشہ کی طرح
میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے
میرے دل کو اپنی مٹھی میں جکڑے
میرے سامنے کھڑے ہو

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 2.0/5 (2 votes cast)
اٌج سال کی اٌخری رات ہے , 2.0 out of 5 based on 2 ratings