مجھے اس زندگانی سے کوئی شکوہ نہیں لیکن

ذرا سی بے سکونی ہے

نجانے کیوں مرے دل میں

عجب اک خوف رہتا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

کہ میرے دل کے دروازے پہ

تیری یاد کی دستک میں وہ شدت نہیں باقی

بہت سی خاص باتیں ہیں

جو مجھ کو عام لگتی ہیں

مرے دل میں انہیں سن کر کوئی طوفاں نہیں اُٹھتا

تری آنکھیں ترا چہرہ

تری آواز کی رم جھم

سبھی کچھ خواب لگتا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

سنہری تتلیوں جیسے

وہ سب خوش رنگ سے سپنے

مرے لفظوں کے پھولوں پر

بہت دن سے نہیں بیٹھے

مجھے محسوس ہوتا ہے

سمے کی تیز لہروں نے

ہمارے ریت کے کچے گھروندے توڑ ڈالے ہیں

مجھے اُن تیز لہروں سے

سنہری تتلیوں جیسے

سبھی خوش رنگ سپنوں سے

کوئی شکوہ نہیں لیکن

ذرا سی بے سکونی ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

تمہارے دل کے دروازے پہ میری یاد کی دستک

مری جاں اب نہیں ہوتی

مری جاں اب نہیں ہوتا

کہ میری یاد آئے تو

تمہاری آنکھ بھر آئے

دعائیں مانگتے لمحے

مجھے تم بھول جاتی ہو

مگر پھر مجھے تم سے

کوئی شکوہ نہیں لیکن

عجب سی بے سکونی ہے

عجب اک خوف ہے دل میں
میں تم کو بھول جاؤں گا

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 2.3/5 (4 votes cast)
عجب اک خوف رہتا ہے, 2.3 out of 5 based on 4 ratings