مرے ہمدم مجھے تم نے بھلا کیسے بھلایا تھا؟
کوئی تدبیر کوئی گر کوئی نسخہ ہمیں بھی تو عنایت ہو
کہ میں تو جب بھی ایسا سوچنا آغاز کرتی ہوں
میری سانسیں بدن کے سارے ریشوں کی طنابوں سے نکلنے کو مچلتی ہیں
اذیت کی سیاہ چادر
وجود زندگی کے نکھرے رنگوں کی بہاریں ڈھانپ لیتی ہیں
جدائی کا تصور دل کی دیواروں کو اپنے ناخنوں سے چھید دیتا ہے
لہو روتی نگاہیں التجاؤں سے بھرا کشکول لگتی ہیں
بدن اجڑے ہوئے مرقد کا اک ٹوٹا ہوا کتبہ دکھائی دینے لگتا ہے
عجب بد سنگ ویرانی، میری ہستی کی رونق خوبروئی خوش مزاجی کے
ستونوں سے لپٹ کر بیٹھہ جاتی ہیں
مرے ہمدم میں تم کو بھولنا چاہوں تو پھر مجھ سے ہوائیں روٹھہ جاتی ہیں
برستی بارشیں مجھہ سے محبت کے تعلق کے مراسم توڑ لیتی ہیں
فضائیں اجنبی آنکھوں سے تکتی ہیں
حسین موسم مرے دل کی گلی کا راستہ ہی بھول جاتے ہیں
مرے تن پر سجے سب رنگ اپنے آپ کو کھو کر اچانک بجھنے لگتے ہیں
مجھے ویران کرتے ہیں
مرے ہمدم مجھے تم نے بھلا کیسے بھلایا تھا
کہ میں تو جب بھی ایسا سوچنا آغاز کرتی ہوں
مری سانسیں اکھڑتی ہیں !!

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 5.0/5 (3 votes cast)
مری سانسیں اکھڑتی ہیں, 5.0 out of 5 based on 3 ratings