ہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی

بچھڑتے وقت، اُن آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ، جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی

کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ معاملہ، جیسے کہ آشنائی نہ تھی

کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
صدا تو آئی تھی، لیکن کوئی دہائی نہ تھی

عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیر
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 1.0/5 (1 vote cast)
ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھی, 1.0 out of 5 based on 1 rating