اِک عمر سے اس شب میں گرفتار ہوں مَیں بھی
اِس ظلم سے اَب بَر سرِ پیکار ہوں مَیں بھی

بچوں کو آسانیاں بہم کرنے کی خاطر
دُشوار منازل کا، طلبگار ہوں مَیں بھی

گھر میرا رکاوٹ تھا، جلا ڈالا ھے اس کو
ہر بار مَیں ڈرتا تھا کہ گھر دار ہوں مَیں بھی

کب تک اِنہی ٹکڑوں پہ گذر اپنی رھے گی
مَیں بے سَروساماں سہی، خود دار ہوں مَیں بھی

اک عمر تلک چشمِ تماشا بھی رہا ہوں
صد شکر تغیر کا عَلم دار ہوں مَیں بھی

ہر وقت کا کُڑھنا بھی، ہنر دے گیا فرخ
مزدور کو اب کُشتہِ پندار ہوں مَیں بھی