اک تو شوقِ سفر بھی رکھتے ہو
اور نگاہوں میں گھر بھی رکھتے ہو

چھوڑ ساحل کو بھی نہیں سکتے
منزلوں پہ نظر بھی رکھتے ہو

مصلحت ظلم سے بھی جاری ھے
جوشِ خونِ جگر بھی رکھتے ہو

تم بغاوت کا حوصلہ تو کرو
جان جاو گے، پَر بھی رکھتے ہو

موت کا وقت جب مقرر ھے
پھر زمانے کا ڈر بھی رکھتے ہو

دل میں باطل سے کُڑھتے رہتے ہو
احترامِ نظر بھی رکھتے ہو

میرِ ملت، انا کا خوں کر کے
اپنے شانوں پہ سر بھی رکھتے ہو

بن کے سردارِ قوم بیٹھے ہو
لب پہ بوندِ عذر بھی رکھتے ہو

تم نے شب کو بھی تھام رکھا ھے
اور امید سحر بھی رکھتے ہو

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 5.0/5 (1 vote cast)
اک تو شوقِ سفر بھی رکھتے ہو, 5.0 out of 5 based on 1 rating