یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
جو برس گئی تو بہار ہیں
جو ٹھہر گئی تو قرار ہیں
،
کبھی آ گئی یونہی بے سبب
کبھی چھا گئی یوں ہی روزِ و شب
کبھی شور ہیں، کبھی چپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
۔
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کہ بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کبھی بوند بوند میں گم سی ہیں
،
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 3.6/5 (5 votes cast)
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں, 3.6 out of 5 based on 5 ratings