تعاقب تتلیوں کا چھوڑ بیٹھے
ارے یہ کیا کیا؟ کیاچھوڑ بیٹھے؟

فقط بے نام تعبیروں کی خاطر
وہ عالم خواب کا سا چھوڑ بیٹھے

کہا تھا اک گلی کو چھوڑدیجو
مگر تم ایک دنیا چھوڑ بیٹھے

سنا ہے عقل باغوں میں در آئی
کہ غنچے مسکرانا چھوڑ بیٹھے

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 0.0/5 (0 votes cast)