مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا
وہ دُور دیس کا باسی تھا کیا وفا کرتا؟

وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
مَیں ہنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا؟

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 5.0/5 (1 vote cast)
مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا, 5.0 out of 5 based on 1 rating