حقیقت جان کر ایسی حماقت کون کرتا ہے
بھلا بے فیض لوگوں سے محبت کون کرتاہے

بتاؤ جس تجارت میں خسارہ ہی خسارہ ہو
بنا سوچے خسارے کی تجارت کون کرتاہے

ہمیں ہی غلط فہمی تھی کسی کے واسطے ورنہ
زمانے کے رواجوں سے بغاوت کون کرتا ہے

خدا نے صبر کرنے کی توفیق بخشی ہے
ارے جی بھر کےستاؤ شکایت کون کرتا ہے

کسی کے دل کے زخموں پر مرہم رکھنا ضروری ہے
مگر اس دور میں محسنؔ یہ زحمت کون کرتاہے

VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 2.3/5 (3 votes cast)
حقیقت جان کر ایسی حماقت کون کرتا ہے, 2.3 out of 5 based on 3 ratings